غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے،…

عن عائشة رضي الله عنها ، قالت: أُصِيب سعد يوم الخندق، رماه رجل من قريش، يقال له حبان بن الْعَرِقَةِ وهو حبان بن قيس، من بني معيص بن عامر بن لؤي رماه في الأَكْحَلِ ، فضرب النبي صلى الله عليه وسلم خَيمة في المسجد ليعوده من قريب، فلما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من الخندق وضع السلاح واغتسل، فأتاه جبريل -عليه السلام- وهو ينفض رأسه من الغُبار، فقال: " قد وضعتَ السلاح، والله ما وضعتُه، اخرج إليهم، قال النبي صلى الله عليه وسلم : فأين فأشار إلى بني قُرَيظة " فأتاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزلوا على حُكمه، فردَّ الحُكمَ إلى سعد، قال: فإني أحكم فيهم: أن تُقتل المقاتِلة، وأن تُسبى النساء والذُّرِّية، وأن تُقسم أموالهم قال هشام، فأخبرني أبي، عن عائشة: أن سعدا قال: اللهم إنك تعلم أنه ليس أحد أحب إلي أن أُجاهدهم فيك، من قوم كذَّبوا رسولك صلى الله عليه وسلم وأخرجوه، اللهم فإني أظن أنك قد وضعتَ الحرب بيننا وبينهم، فإن كان بقي من حرب قريش شيء فأَبْقِني له، حتى أجاهدهم فيك، وإن كنتَ وضعتَ الحرب فافْجُرها واجعل موتتي فيها، فانفجرت من لَبَّته فلم يَرْعَهم، وفي المسجد خيمة من بني غِفَار، إلا الدم يسيل إليهم، فقالوا: يا أهل الخيمة، ما هذا الذي يأتينا من قبلكم؟ فإذا سعد يَغْذو جرحه دما، فمات منها رضي الله عنه .

حدیث کی وضاحت: غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے،…

حدیث شریف میں صحابیٔ جلیل سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے، اس طور پر کہ دورانِ جہاد وہ زخمی ہو گئے تو ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا گیا تاکہ نبی ﷺ ان کی عیادت کر سکیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں جو فیصلہ دیا وہ فیصلہ ساتوں آسمانوں کے اوپر سے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کے عین موافق تھا، اور وہ یہ کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیے جائیں، ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال ضبط کر لیا جائے، اور یہ سب کچھ مسلمانوں کے ساتھ ان کی خیانت اور عہد شکنی اورخندق کے جنگی حالات اور قریش کے مدینہ کے اطراف جم گھٹے سے غلط فائدہ اٹھانے کے سبب تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری فضیلت ان کی دعا سے آشکار ہوتی ہے کہ اللہ تعالی انہیں باحیات رکھے اگر قریش اور مسلمانوں کے مابین لڑائی ابھی باقی ہو اور اگر قریش کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے تو میرے ان زخموں کو پھر سے ہرا کر دے جو خندق کے دن مجھے لاحق ہوئے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ (اور ایسا ہی ہوا)

موضوعات : مساجد کے احکام · آپ ﷺ کے غزوات اور سرایا

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود