ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی، صحابہ رضی اللہ …

اسلام > Ur > حدیث > سیرت و تاریخ > ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی، صحابہ رضی اللہ …

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخ…

عن جابر رضي الله عنه قال: إنا كنا يوم الخندق نحفر فعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شديدة، فجاؤوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: هذه كُدْيَةٌ عَرَضَتْ في الخندق. فقال: «أنا نازل» ثم قام، وبطنه مَعْصوبٌ بحَجَرٍ، ولبثنا ثلاثة أيام لا نذوق ذواقًا، فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم المِعْوَلَ، فضرب فعاد كَثِيبًا أَهْيَلَ أو أَهْيَمَ، فقلت: يا رسول الله ائْذَنْ لي إلى البيت، فقلت لامرأتي: رأيتُ بالنبي صلى الله عليه وسلم شيئًا ما في ذلك صبرٌ فعندك شيء؟ فقالت: عندي شَعِيرٌ وعَنَاقٌ، فذبحتِ العَنَاقَ وطَحَنَتِ الشعيرُ حتى جعلنا اللحمَ في البُرْمَةِ، ثم جِئْتُ النبي صلى الله عليه وسلم والعَجِينُ قد انْكَسَرَ، والبُرْمَةُ بين الأَثَافِي قد كادت تَنْضِجُ، فقلت: طُعَيْمٌ لي فقم أنت يا رسول الله ورجل أو رجلان، قال: «كم هو»؟ فذكرت له، فقال: «كثيرٌ طيبٌ قل لها لا تَنْزِعِ البُرْمَةَ، ولا الخبز من التَّنُّورِ حتى آتي» فقال: «قوموا»، فقام المهاجرون والأنصار، فدخلت عليها فقلت: وَيْحَك قد جاء النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرون والأنصار ومن معهم! قالت: هل سألك؟ قلت: نعم، قال: «ادخلوا ولا تَضَاغَطُوا» فجعل يكسر الخبز، ويجعل عليه اللحم، ويُخَمِّرُ البُرْمَةَ والتَّنُّورَ إذا أخذ منه، ويقرب إلى أصحابه ثم يَنْزِعُ، فلم يزل يكسر ويَغْرِفُ حتى شَبِعُوا، وبقي منه، فقال: «كُلِي هذا وأَهْدِي، فإن الناس أصابتهم مَجَاعَةٌ».
وفي رواية قال جابر: لما حفر الخَنْدَقَ رأيت بالنبي صلى الله عليه وسلم خَمَصًا، فانْكَفَأْتُ إلى امرأتي، فقلت: هل عندك شيء؟ فإني رأيت برسول الله صلى الله عليه وسلم خَمَصًا شديدًا، فأخرجت إلي جِرَابًا فيه صاع من شعير، ولنا بهيمة دَاجِنٌ فذبحتها، وطحنت الشعير، ففرغت إلى فراغي، وقَطَّعْتُهَا في بُرْمَتِهَا، ثم وَلَّيْتُ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: لا تفضحني برسول الله صلى الله عليه وسلم ومن معه، فجئته فسَارَرْتُه، فقلت: يا رسول الله، ذبحنا بهيمة لنا، وطحنت صاعًا من شعير، فتعال أنت ونفر معك، فصاح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أهل الخندق: إن جابرًا قد صنع سُؤْرًا فَحَيَّهَلا بكم» فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تنزلن بُرْمَتِكُم ولا تَخْبِزَنَّ عَجِينَكُم حتى أَجِيء» فجئت وجاء النبي صلى الله عليه وسلم يقدم الناس، حتى جئت امرأتي، فقالت: بك وبك! فقلت: قد فعلت الذي قلت. فأخرجت عجينًا، فبَسَقَ فيه وبَارَكَ، ثم عمد إلى بُرْمَتِنَا فبَصَقَ وبَارَكَ، ثم قال: «ادعي خَابِزَةً فلتَخْبِزْ معك، واقْدَحِي من بُرْمَتِكُم، ولا تنزلوها» وهم ألف، فأقسم بالله لأكلوا حتى تركوه وانحرفوا، وإن بُرْمَتَنَا لتَغِطُّ كما هي، وإن عَجِينَنَا ليُخْبَزُ كما هو.

حدیث کی وضاحت: ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخ…

جابر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے تفصیلی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین غزوۂ خندق کے موقع پر مدینے کے اطراف میں خندق کی کھدائی میں مصروف تھے، جو ان کے اور دشمنان اسلام کے درمیان رکاوٹ بن سکے۔ کھدائی کے دوران زمین کے ایک حصے میں سخت قسم کی چٹان کا ایک بڑا سا ٹکڑا نمودار ہوا، جس پر کلہاڑی اپنا کوئی اثر نہیں دکھا پا رہی تھی۔ صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس مشکل کا شکوہ کیا، تو آپﷺ خود خندق میں اترے، جب کہ بھوک کی شدت سے آپ نے اپنے پیٹ کو پتھر سے باندھ رکھا تھا، آپ نے کدال لی، جو کہ لوہے کا ایک اوزار ہے، جس سے پہاڑ کھودا جاتا ہے، اور اس سے چٹان پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ نرم و نازک ریت میں تبدیل ہوگئی۔

جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر گیا اور بیوی سے دریافت کیا کہ آیا گھر میں کھانے کی کوئی چیز موجود ہے یا نہیں؟ بیوی کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی شدید بھوک کا حال بھی بیان کیا۔ چنانچہ ان کی بیوی نے ایک چمڑے کا برتن نکالا، جس میں کچھ جَوتھی اور ان کے ہاں بکری کا ایک مادہ بچہ تھا، (بکری کے پہلے مادہ بچے کو عناق کہتے ہیں) جو گھر سے مانوس ہوچکا تھا، انھوں نے اسے ذبح کیا۔ اس دوران بیوی نے جو پیس لی اور پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا۔ ادھر جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور چپکے سے بتایا کہ انھوں نے آپﷺ کے لیے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے،جو آپ کے تمام ساتھیوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ اپنے چند اصحاب کے ہم راہ ان کے گھر کھانے پر تشریف لائیں۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنے تمام اصحاب کو دعوت عام دیتے ہوئے ندا لگائی کہ اے خندق کھودنے والے ساتھیو!جابر نے کچھ کھانا تیار کیا ہے، جلدی سے ان کے گھر چلو!! پھر آپ ﷺ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور گوندھا ہوا آٹا منگا کر اس میں اپنا لعاب دہن شامل فرمایا۔ اسی طرح ہانڈی میں بھی لعاب دہن کی آمیزش کی اور ان میں خیر و برکت کی دعا فرمائی۔ خیال رہے کہ یہ امر آپ ﷺ کی خصوصیات اور برکات سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ نے کھانا تیار کرنے میں جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بعض عورتوں کو طلب فرمایا۔ بالآخر سارے لوگ اس دعوت طعام میں شریک ہوئے اور سب کے سب شکم سیر ہوکر واپس لوٹ گئے اور کھانا اپنی اصل مقدار ہی میں باقی رہ گیا۔ ہانڈی میں اسی طرح ابال تھا اور گوندھے ہوئے آٹے سے اس طرح روٹیاں پک رہی تھیں۔ گویا کسی طرح کی کمی واقع ہوئی ہی نہ ہو۔

موضوعات : آپ ﷺ کے غزوات اور سرایا

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود