میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب ر…

اسلام > Ur > حدیث > سیرت و تاریخ > میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب ر…

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں او…

عن أبي الفضل العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حُنَيْنٍ، فلَزِمْتُ أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نفارقه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم على بَغْلَةٍ له بيضاء، فلما التقى المسلمون والمشركون وَلَّى المسلمون مدبرين، فطَفِقَ رسول الله صلى الله عليه وسلم يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الكفار، وأنا آخِذٌ بلِجامِ بَغْلَةِ رسول الله صلى الله عليه وسلم أَكُفُّها إِرَادَةَ أن لا تُسرع، وأبو سفيان آخِذٌ برِكاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أي عباس، نادِ أصحاب السَّمُرَةِ». قال العباس - وكان رجلا صَيِّتًا - فقلت بأعلى صوتي: أين أصحاب السَّمُرَةِ، فوالله لكأن عَطْفَتَهُم حين سمعوا صوتي عَطْفَةَ البقر على أولادها، فقالوا: يا لبيك يا لبيك، فاقتتلوا هم والكفار، والدعوةُ في الأنصار يقولون: يا معشر الأنصار، يا معشر الأنصار، ثم قُصِرَتِ الدعوة على بني الحارث بن الخَزْرَجِ، فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على بغلته كالمتطاول عليها إلى قتالهم، فقال: «هذا حِينَ حَمِيَ الوَطِيسُ»، ثم أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم حَصَيَاتٍ فرمى بهن وجوه الكفار، ثم قال: «انْهَزَمُوا ورَبَّ مُحَمَّدٍ»، فذهبت أنظر فإذا القتال على هيئته فيما أرى، فوالله ما هو إلا أن رماهم بحَصياته، فما زِلْت أرى حَدَّهُم كَلِيلًا وأمرَهم مُدبرًا.

حدیث کی وضاحت: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں او…

ابو الفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھا۔ جب مسلمانوں اور کفار کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا تو کچھ مسلمان مشرکین کو پیٹھ دے کر بھاگ اٹھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑ لگا کر اسے کفار کی طرف لے جانا شروع کر دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی اور اسے دشمن کی جانب بڑھنے سے روک رہا تھا جب کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھام رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عباس! اصحاب سمرہ کو پکارو۔ سمرہ (ببول) وہ درخت ہے جس کے نیچے صحابہ کرام نے ہجرت کے چھٹے سال صلح حدیبیہ کے دن بیعت کی تھی۔عباس رضی اللہ عنہ ایک قوی آواز شخص تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آواز کو پوری طرح بلند کر کے پکارا: اے اصحابِ سمرہ؟۔ یعنی درخت تلے ہونے والی اپنی اس بیعت اور اس کے تقاضے کو فراموش مت کرو۔ اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز کو سنا کہ میں انہیں پکار رہا ہوں تو وہ اس سرعت سے آئے جیسے گائیوں کے ریوڑ سے جب ان کے بچے اوجھل ہو جائیں تو وہ تیزی سے آتی ہیں۔ وہ بیک زبان یا فردا فردا کہہ رہے تھے: اے قوم! ہم حاضر ہیں، اے قوم! ہم حاضر ہیں۔ مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑائی شروع ہو گئی۔انصاریوں کے لیے یہ پکار لگ رہی تھی: اے انصاریو! اے انصاریو!۔

پھر یہ پکار صرف بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو کر رہ گئی اور اے بنو حارث! کی پکار لگ رہی تھی۔ بنو حارث ایک بہت بڑا قبیلہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے اور اسی حالت میں آپ ﷺ نے گویا اپنی گردن بلند کرتے ہوئے ان کفار کے ساتھ لڑائی کو دیکھا اور فرمایا: اس وقت لڑائی خوب گرم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ کنکریاں اٹھا کر انہیں ان کافروں کے چہروں پر مارا اور بطور اچھے شگون یا خبر دینے کی غرض سے فرمایا کہ محمد کے رب کی قسم! یہ کفار شکست کھا چکے ہیں۔ میں دیکھنے گیا تو مجھے لڑائی اپنی حالت پر قائم نظر آئی۔ اللہ کی قسم! جب سے آپ ﷺ نے ان کو اپنی وہ کنکریاں ماریں، تب سے ان کازور ٹوٹنا شروع ہو گیا اور اُن کی حالت مسلسل ابتر ہو نے لگی۔

موضوعات : آپ ﷺ کے غزوات اور سرایا

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود