اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ اہلِ جنت میں سے آدھے تم ہو گ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في قُبَّةٍ نحوا من أربعين، فقال: «أترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة؟» قلنا: نعم، قال: «أترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة؟» قلنا: نعم، قال: «والذي نفس محمد بيده، إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة، وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود، أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر».
اللہ کے رسول ﷺ تقريبا جاليس صحابہ کرام کے ساتھ ايک چھو ٹے سے خيمہ ميں بيٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر فرمايا: کیا تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟ انہوں نے پھر اثبات میں جواب دیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے اور دوسرا نصف باقی ساری امتوں سے ہوں گے۔کیونکہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوں گے، اس میں کوئی کافر نہیں جائے گا۔ اور اہلِ شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتا ہے۔
موضوعات : اخروی زندگی · جنت و دوزخ کا بیان