کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ جس ن…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ جس ن…

حدیث کے راوی: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے…

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يَحِلُّ لمسلم أن يَهْجُرَ أخَاه فوق ثَلَاث، فمن هَجَر فوق ثَلَاث فمات دخل النَّار».

حدیث کی وضاحت: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے…

حدیث کا مفہوم: مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے جب کہ یہ قطع تعلقی محض اپنی ذات اور دنیوی امورکی خاطر ہو۔ تاہم اگر اس قطع تعلقی کا کوئی شرعی مقصد ہو تو پھر جائز ہے بلکہ کبھی تو ایسا کرنا واجب ہو جاتا ہے جیسے اہل بدعت اور فاجر و فاسق لوگوں سے قطع تعلقی کرنا جب کہ وہ توبہ نہ کریں۔ جو شخص ایسا کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں اسے موت آ جاتی ہے اور وہ اپنی معصیت پر ڈٹا رہتا ہے اور موت سے پہلے اس سے تائب نہیں ہوتا تو وہ جہنم میں جاتا ہے۔یہ بات معلوم ہے کہ مسلمانوں میں سے جو شخص کسی گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوتا ہے اور اللہ اس سے درگزر نہیں کرتا تو وہ اس میں جائے گا تو سہی لیکن اس سے ضرور باہر آئے گا۔ اورجہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صرف کافر لوگ ہی رہیں گے جو اس کے اہل ہیں، اور جن کے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔

موضوعات : اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا إله إلا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود