اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب ”حَيَّ عَلَى الصّ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي جحيفة رضي الله عنه قال: رأيت بلالًا يؤذِّن ويدور ويتبع فاه هاهنا، وهاهنا، وإصبعاه في أُذنيه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في قُبَّةٍ له حمراء -أُراه قال: من أَدَمٍ- فخرج بلال بين يديه بِالعَنَزَةِ فركزها بِالبَطْحَاءِ، «فصلى إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم، يمر بين يديه الكلب والحمار، وعليه حُلَّةٌ حمراء»، كأني أنظر إلى بَرِيقِ ساقيه. وفي رواية: رأيت بلالًا خرج إلى الأبطح فأذَّن فلما بلغ حي على الصلاة، حي على الفلاح، لوى عنقه يمينا وشمالا، ولم يستدِر.
نبی ﷺ نے بالائی مکہ، بطحاء میں پڑاؤ فرمایا تھا۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا وہ ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکے کیونکہ ان دونوں جملوں میں نمازکے لیے آنے کی ترغیب ہے۔
پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیاتاکہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔
موضوعات : اذان اور اقامت