اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > تم ان کے امام ہو، تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو ا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عثمان بن أبي العاص رضي الله عنه قال: يا رسول الله، اجعلني إمام قومي، قال: «أنت إمامهم، وَاقْتَدِ بأضعفهم، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّناً لا يأخذ على أذانه أجرا».
یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ جو اپنے اندر امامت کی اہلیت پائے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حاکمِ وقت سے اس کا مطالبہ کرے، یہ امارت کا مطالبہ نہیں، اس لیے کہ امارت کا مطالبہ کرنا ممنوع ہے۔ ہاں امام پر اپنے کمزور اور عاجز مقتدیوں کی رعایت کرنا ضروری ہے ورنہ معاملہ ان کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ مؤذن کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اذان دے تاکہ اس کا یہ عمل اخلاص کے قریب ہو۔ اگر تبرعاً کوئی اذان دینے والا نہ ہو تو حاکمِ وقت کا بیت المال سے اس کے لیے وظیفہ جاری کرنا جائز ہے۔
موضوعات : اذان اور اقامت