اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جب نماز کھڑی ہو جائے اور رات کا کھانا بھی سامنے آ جائے، تو رات کے کھانے سے پہل کرو۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة وعبد الله بن عمر وأنس بن مالك رضي الله عنهم مرفوعاً: «إِذَا أُقِيمَت الصَّلاَة، وحَضَرَ العَشَاء، فَابْدَءُوا بِالعَشَاء».
جب نماز کھڑی ہوجائے اورکھانے پینے کی اشیا سامنے موجود ہوں، تو مناسب یہ ہے کہ کھانے پینے سے پہل کی جائے؛ تاکہ نمازی کی بھوک ختم ہوجائے اور اس کا ذہن دوران نماز کھانے کی طرف نہ لگا رہے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ نمازکا وقت تنگ نہ ہو اور کھانے کی ضرورت اوراس کی چاہت بھی ہو۔ اس میں اس بات کی تاکید ہے کہ یہ شریعت کامل ہے اورآسانی وکشادگی کے ساتھ انسانی جان کے حقوق کا خیال رکھتی ہے۔
موضوعات : اذان اور اقامت