اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان کے کلمات کو دو دو دفعہ اور اقامت کے کلمات کو ایک ا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «أُمِر بِلاَل أن يَشفَع الأَذَان، ويُوتِر الإِقَامَة».
نبی ﷺ نے اپنے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان کے کلمات کو دوہرا کر کہیں، کیوںکہ یہ غیر موجود لوگوں کو باخبر کرنے کے لیے ہوتی ہے، اس لیے اس کے الفاظ کو دو دو دفعہ کہیں۔ ماسوا شروع والی تکبیر کے؛ کیوں کہ اسے چار دفعہ کہنا ثابت ہے اور سوائے آخر میں بولےجانے والے کلمہ توحید کے؛ کیوں کہ اسے ایک دفعہ کہنا ثابت ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اقامت کو اکہرا کہیں؛ کیوں کہ یہ موجود لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہوتی ہے، بایں طور کہ اس کے جملوں کو ایک ایک دفعہ کہیں، سوائے تکبیر اور "قد قامت الصلوۃ" کے؛ کیوں کہ انھیں دو دو دفعہ کہنا ثابت ہے۔
موضوعات : اذان اور اقامت