اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > سنت یہ ہےکہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے ت…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس رضي الله عنه قال: «من السُّنَّة إذا تزوَّج الرجل البِكْرَ على الثَّيِّب أقام عندها سبْعا وقَسَم، وإذا تزوَّج الثَّيِّب على البِكْر أقام عندها ثلاثا ثم قَسَم» قال أبو قِلابة: ولو شئتُ لقلتُ: إنَّ أنَسًا رَفَعَه إلى النبي صلى الله عليه وسلم .
دوسری بیوی یا دو سے زائد بیویوں کے ہوتے ہوئے نیا نکاح کرنے والوں کے تئیں اس حدیث میں نبی ﷺ سے ثابت شدہ سنت کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر نئی بیوی کنواری ہو تو وہ اس کے ہاں سات راتیں گزارے، پھر اس کے اور اپنی دیگر بیویوں کے مابین باریاں طے کرے اور اگر نئی بیوی غیر کنواری (شادی شدہ) ہو تو اس کے ہاں تین راتیں قیام کرے، پھر باریاں تقسیم کرے ۔ کنواری اور شادی شدہ بیویوں کے درمیان یہ تقسیم ہوگی کیونکہ کنواری خاتون کے ساتھ زیادہ انسیت پیدا کرنے اور اس کی اجنبیت کا خوف اور اس کےاحساس شرم و حیاکو زائل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ اس کے نکاح کا بالکل ابتدائی زمانہ ہوتا ہے۔ شادی شدہ خاتون کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے،اس لیے اس کو ان چیزوں کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مرد کو شادی شدہ کے بالمقابل، کنواری خاتون کی جانب زیادہ رغبت و خواہش ہوتی ہے، چنانچہ شارع نے اس کو اتنی مدت عنایت فرمائی کہ اس کی دلی خوشی کا سامان ہو اور اس کی جنسی خواہش کو سیرابی میسر آجائے۔
موضوعات : ازدواجی زندگی