اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ای…
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عروة قال: قالت عائشة رضي الله عنها : «يا ابن أختي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يُفضِّل بعضنا على بعض في القَسْم، مِنْ مُكْثِه عندنا، وكان قَلَّ يومٌ إلا وهو يَطُوف عليْنا جميعًا، فَيَدْنُو مِنْ كلِّ امرأة مِنْ غَيْر مَسِيسٍ، حتى يَبْلُغ إلى التي هو يومُها فَيَبِيتُ عندها» ولقد قالت سَوْدة بنت زَمْعَة: حِينَ أسَنَّتْ وفَرِقَتْ أنْ يُفارِقَها رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا رسول الله، يَوْمِي لعائشة، فَقَبِل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم منها، قالت: نَقول في ذلك أَنْزَل الله تعالى وفي أَشْبَاهِها أُراه قال: {وإن امرأة خافت من بعلها نشوزًا} [النساء: 128].
اس حدیث میں آپ ﷺ کا اپنی بیویوں کے مابین باری سے متعلق عدل و انصاف کا بیان ہے، اس طرح کہ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تقریبا ہر روز آپ اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے دلوں کی طمانیت کے لیے جماع کے سوا ہر طرح کی ملاطفت و مداعبت فرماتے تھے، پھر جس کے یہاں رات گزارنی ہوتی وہاں جاتے۔ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انھیں خوف دامن گیر ہوا کہ نبی ﷺ انھیں الگ کر دیں گے۔ انھوں نے آپ کی زوجیت میں باقی رہنا اور اس شرف و فضل سے سرفراز رہنا چاہا اور یہ شرف و فضل تمام مومنین کی ماں اور سید المرسلین ﷺ کی بیوی ہونا ہے، اس لیے انھوں نے کہا: میں اپنی باری عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں اور نبی ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔
پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی اور بے پروائی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں“ ذکر کیا کہ یہ اسی حالت یا اسی طرح کی چیزوں کے لیے نازل ہوئی۔
موضوعات : ازدواجی زندگی