اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کسی حاملہ عورت سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ زچگی نہ ہو جائے اور غیر حاملہ سے بھی …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في سَبَايَا أَوْطَاس: «لا تُوطَأُ حَامِلٌ حتى تَضَعَ، ولا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حتى تَحِيضَ حَيْضَةً».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ مکہ کے قریب واقع اوطاس کے مقام پر نبی ﷺ نے جہاد میں کفار سے گرفتار کی گئی کسی حاملہ عورت سے تب تک مباشرت سے منع فرمایا جب تک کہ بچہ جن دینے کے ساتھ اس کا استبراء رحم نہ ہو جائے اور وہ اپنے نفاس سے پاک نہ ہوجائے۔ جب کہ وہ عورت جو حاملہ نہ ہو اس سے اس وقت تک ہم بستری نہیں کی جائے گی جب تک کہ اسے ایک حیض نہ آ جائے۔ کیونکہ ہمیں اس کے پیٹ کے بچے سے خالی ہونے کا علم حیض ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔ گرفتار شدہ باندی پر قیاس کرتے ہوئے خرید کردہ یا کسی بھی اور طریقے سے ملکیت میں آنے والی باندی کا بھی یہی حکم ہے۔
موضوعات : استبراءِ رحم