اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > جو مسلمان کوئی پودا لگاتا ہے، تو اس میں سے جو کچھ کھایا جاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا، …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما من مسلم يَغرس غَرسا إلا كان ما أُكل منه له صدقة، وما سُرق منه له صدقة، ولا يَرْزَؤُهُ أحد إلا كان له صدقة».
وفي رواية: «فلا يَغرس المسلم غَرسا فيأكلَ منه إنسان ولا دَابَة ولا طير إلا كان له صدقة إلى يوم القيامة»، وفي رواية: «لا يَغرس مسلم غرسا، ولا يزرع زرعًا، فيأكل منه إنسان ولا دَابَة ولا شيء، إلا كانت له صدقة».
اس حدیث کا مفہوم یہ ہےکہ جو بھی مسلمان کوئی پودا لگائے یا فصل بوئے اور اس میں سے کوئی جان دار مخلوق کھا لے، تو اسے اس پر ثواب ملتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وفات کے بعد بھی اس کے اس عمل کا ثواب اس وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک اس کی یہ کھیتی اور لگایا ہوا درخت باقی رہتا ہے۔ اس حدیث میں کھیتی کرنے اور پودے لگانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کیوں کہ کھیتی کرنے اور پودے لگانے میں بہت سی خیر مضمر ہے۔ اس میں دینی فائدہ بھی ہے اور دنیاوی بھی۔ اگر اس میں سے کوئی کھا لے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔ اس سے عجیب تر یہ کہ اگر اس میں سے کسی چور نے کچھ چرا لیا، مثلا کوئی شخص کھجور کے پودے پاس آ کر اس میں سے کھجوریں چرا لے، تو اس کھجور کے مالک کو اس پر بھی اجر ملے گا، اگرچہ اسے اگر اس چور کا پتہ لگ جائے، تو وہ اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دے گا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اس چوری کے بدلے میں قیامت کے دن تک اس کے لیے صدقہ کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح جب کھیتی کو جانور یا کیڑے مکوڑے کھا جائیں، تو یہ بھی صدقہ شمار ہوگا۔ حدیث بالخصوص مسلم کا ذکر اس لیے ہوا ہے کہ وہی در حقیقت دنیا و آخرت میں صدقہ کے ثواب سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
موضوعات : اسلام کی فضیلت اور اس کی خوبیاں