اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > اے اللہ! میری امت کو اس کے دن کے ابتدائی حصے میں برکت دے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن صَخْر بن وَدَاعَة الغامدي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اللهم بارك لأمتي في بُكُورها» وكان إذا بعَث سَرِيَّةً أو جيشًا بعَثَهم من أوَّل النهار، وكان صَخْر تاجرًا، وكان يبعث تِجارته أوَّل النهار، فأَثْرَى وكثُر مالُه.
نبی ﷺ اپنی امت کے لیے دعا فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے صبح کے وقت اور ان کے دن کے ابتدائی حصے میں ان کے لیے برکت رکھ دے تاکہ یہ وقت ان کے ان کاموں کے لیے کشادہ ہو جائے جنہیں ان کو کرنا ہے اور بذات خود عمل میں بھی بڑھوتری اور اضافہ ہو، چاہے ایسا تلاشِ معاش میں ہو یا تلاشِ علم میں یا پھر دشمن پر فتح یاب ہونے کے لیے یا پھر کسی بھی دوسرے عمل میں ہو۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ جنگ کے لیے لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں روانہ کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ خود صخر بن وداعہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ہوا جو نبی ﷺ کی اس دعا کی بدولت بہت زیادہ مال دار ہو گئے۔
موضوعات : اسلام کی فضیلت اور اس کی خوبیاں