اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جس نے اذان کو سنا اور (باجماعت) نماز کے لئے نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں، سوائے اس کے کہ ک…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من سمِع النِّدَاء فلم يَأتِه؛ فلا صلاة له إلا من عُذْر».
اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ باجماعت نماز پر توجہ دی جائے اور اس کا انتہائی زیادہ اہتمام کیا جائے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جو شخص کسی ایسی جگہ ہو کہ باجماعت نماز کے لیے دی گئی اذان اسے سنائی دے تو اس کے لیے باجماعت نماز کے لیے آنا واجب ہے۔ اگر وہ نہیں آئے گا تو اس کی نماز ناقص اور کم ثواب والی ہوگی تاہم اس کے ذمہ واجب الاداء فرض پورا ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بلا عذر نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانے کا گناہ بھی اس پر آئے گا۔ رہا وہ شخص جو کسی شرعی عذرجیسے بیماری، بارش یا جان و مال یا بچوں کے خوف یا اس طرح کی کسی اور وجہ کی بنا پر نہ پہنچ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
موضوعات : باجماعت نماز کی فضیلت اور اس کے احکام