جسے کسی چیز کی بیعِ سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور مقرره وزن اور متعينہ مدت تک کے لیے…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جسے کسی چیز کی بیعِ سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور مقرره وزن اور متعينہ مدت تک کے لیے…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جسے کسی چیز کی بیعِ سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور…

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، وهم يُسلفون في الثمار: السنة والسنتين والثلاث، فقال: «من أسلَفَ في شيء فليُسلف في كيل معلوم، ووزن معلوم، إلى أجل معلوم».

حدیث کی وضاحت: جسے کسی چیز کی بیعِ سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور…

نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مدینہ کے باشندے جو کھیتیوں اور باغات کے مالک تھے بیع سلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ قیمت کو پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے اور پھلوں کی ادائگی کو ایک سال یا دو سال یا تین سال تک موخر رکھتے۔ نبی ﷺ نے انہیں اس معاملے کی اجازت دی اور اسے بیع کی اس قسم میں سے نہیں گردانا جس میں بائع ایسی شے فروخت کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی اور جو غرر تک لے جاتی ہے۔ کیونکی بیع سلم کا تعلق ذمہ کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ اشیاء کے ساتھ۔ تاہم نبی ﷺ نے اس معاملے کے کچھ احکامات کی وضاحت فرما دی جو لوگوں کو ان لڑائی جھگڑوں سے بچاتے ہیں جو بعض اوقات مدت کے لمبا ہونے کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو کسی شے میں بیع سلم کرے اسے چاہئے کہ وہ شرعی طور پر معروف کیل اور وزن کے آلات کے ذریعے اس کی مقدار کا پوری طرح تعین کرے اور اسے ایک مقررہ مدت تک رکھے تاکہ اس کی مقدار اور مدت معلوم ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا کا احتمال نہ رہے اور خریدار اپنا حق پوری طرح سے وصول کر لے۔

موضوعات : بیعِ سلم

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود