اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > نبی کریم ﷺ نے چند لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے، انسان اسی …
یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس رضي الله عنه قال: خطَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم خُطُوطاً، فقال: "هذا الإنسان، وهذا أجَلُهُ، فبينَما هو كذلكَ إذ جاءَ الخَطُّ الأقْرَبُ".
عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: خطَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم خطاً مربعاً، وخطَّ خطاً في الوسطِ خارجاً منه، وخطَّ خططاً صغاراً إلى هذا الذي في الوسطِ من جانبِه الذي في الوسطِ، فقال: «هذا الإنسانُ، وهذا أجلُهُ محيطاً بِه -أو قد أحاطَ بِه- وهذا الذي هو خارجٌ أملُهُ، وهذه الخُطَطُ الصِّغَارُ الأعْرَاضُ، فإن أخطَأهُ هذا، نَهَشَهُ هذا، وإن أخطَأهُ هذا، نَهَشَهُ هذا».
ان دونوں حدیثوں میں انسان کی امیدوں، اس کی موت اور اسے درپیش مصیبتوں کی مثال بیان کی گئی ہے، جن میں سے کسی سے بھی اس کی موت ہو سکتی ہے، اگر وہ ان سے بچ نکلتا ہے، تو اس کا وقت پورا ہونے پر اسے موت آ جائے گی۔ حدیث میں مذکور خطوط سے مراد درپیش مصائب ہیں، آدمی ان میں سے ایک سے بچ نکلے تو دوسرے سے بچ نہیں پاتا اور اگر سب سے بچ جاۓ، اسے کوئی آفت جیسے بیماری، مالی تباہی وغیرہ لاحق نہ ہو، تو بالآخر موت آ گھیرے گی۔ خلاصہ یہ کہ جو شخص کسی سبب سے نہ مرے، وہ مقررہ وقت پر مرے گا، انسان یوں ہی مصیبتوں میں گھرا ہوا ہوگا کہ اسے قریبی لکیر یعنی موت آ پہنچے گی۔
اس حدیث میں امید کم کرنے اوراچانک آنے والی موت کی تیاری میں لگے رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ حدیث میں "النهش" کا لفظ استعمال کیا گیا۔ جس کے معنیٰ ہیں زہریلا ڈنک۔ یہ تکلیف اور ہلاکت میں مبالغہ سے کنایہ ہے۔
موضوعات : تزکیہ نفس