اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بھی بات کہی، اس نے اللہ پر بہت بڑا…

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بھی بات کہی، اس نے اللہ پر بہت بڑا…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک…

عن مسروق، قال: كنتُ مُتَّكئًا عند عائشة، فقالت: يا أبا عائشة، ثلاثٌ مَن تكلَّم بواحدةٍ منهن فقد أَعظَمَ على اللهِ الفِرْيةَ، قلتُ: ما هن؟ قالت: مَن زعم أنَّ محمدًا صلى الله عليه وسلم رأى ربَّه فقد أعظم على الله الفِرْيةَ، قال: وكنتُ مُتَّكئًا فجلستُ، فقلتُ: يا أمَّ المؤمنين، أَنْظِريني، ولا تَعْجَليني، أَلَم يقل اللهُ عز وجل : {ولقد رآه بالأُفُق المُبين} [التكوير: 23]، {ولقد رآه نَزْلَةً أخرى} [النجم: 13]؟ فقالت: أنا أولُ هذه الأمَّة سأل عن ذلك رسولَ الله صلى الله عليه وسلم ، فقال: «إنما هو جبريلُ، لم أَرَه على صُورتِه التي خُلق عليها غير هاتين المرَّتين، رأيتُه مُنهبِطًا من السماء سادًّا عِظَمُ خَلقِه ما بيْن السماء إلى الأرض»، فقالت: أَوَلَم تسمع أنَّ الله يقول: {لا تُدْرِكه الأبصارُ وهو يُدْرِكُ الأبصارَ وهو اللطيفُ الخبيرُ} [الأنعام: 103]، أَوَلَم تسمع أنَّ الله يقول: {وما كان لبشرٍ أن يُكلِّمه اللهُ إلا وحيًا أو من وراء حِجاب أو يُرسلُ رسولا فيوحيَ بإذنه ما يشاء إنَّه عَلِيٌّ حَكِيمٌ} [الشورى: 51]، قالت: ومَن زعم أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كَتَم شيئا مِن كتاب الله، فقد أعْظَم على الله الفِرْيةَ، واللهُ يقول: {يا أيها الرسول بَلِّغْ ما أُنزِل إليك من ربك وإن لم تفعلْ فما بلَّغتَ رسالتَه} [المائدة: 67]، قالت: ومَن زعم أنه يُخبر بما يكون في غدٍ، فقد أعْظَم على الله الفِرْيةَ، والله يقول: {قل لا يعلمُ مَنْ في السماوات والأرضَ الغيبَ إلَّا الله} [النمل: 65].

حدیث کی وضاحت: اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک…

جلیل القدر تابعی مسروق، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے کوئی بھی بات کہی، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ مسروق نے ان سے کہا: یہ باتیں کون سی ہیں؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا جواب دیا:

اوّل: جس نے یہ دعویٰ کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پربہت بڑا جھوٹ باندھا۔ مسروق ٹیک لگائے ہوئے تھے، مگر سیدھے ہو گئے اوران سے کہا: آپ یہ بات کیسے کہہ رہی ہیں کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو نہیں دیکھا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ولقد رآه بالأُفُق المُبين﴾ اس نے اس کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔ (التکویر: 23)، نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿ولقد رآه نَزْلَةً أخرى﴾ بے شک اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا۔ (النجم : 13)؟

تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ سب سے پہلے انھوں نے ہی ان دونوں آیتوں سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، تو آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ نے تو جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ ان دو مواقع کے سوا اورکوئی موقع ایسا نہیں ہے، جب جبریل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ سلم نے ان کی اصل صورت میں دیکھا ہو، جس پر اللہ نے ان کی تخلیق فرمائی ہے۔ ایک مرتبہ سورج نکلنے کی جگہ کے کنارے، جب کہ ہر چیز واضح اور ظاہر ہو جاتی ہے اور دوسری مرتبہ آپ ﷺ نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے، ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کی درمیانی جگہ کو گھیر رکھا تھا۔

پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کا اپنے رب کو نہ دیکھنے کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے لی: ﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہےاوروہی بڑا باریک بیں اورباخبر ہے۔ (الانعام: 103) اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ نا ممکن ہے کہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے، پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیجے۔ اوروہ اللہ کے حکم سے، جو وہ چاہے، وحی کرے۔ بے شک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (الشوریٰ: 51)

دوم: جس نے یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب سے کچھ چھپا لیا ہے، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾ اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا، تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی۔ (المائدہ: 67)

سوم: جس نے یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ﷺ، اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر ازخود مستقبل کی باتیں بتاتے ہیں، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ﴾ کہہ دیجیے کہ آسمانوں والوں میں سے اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا۔ (النمل: 65)

موضوعات : توحیدِ اُلوہیت

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود