ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی موضوع پر گفتگو کی اور اسی دو…
اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی موضوع پر گفتگو کی اور اسی دو…
حدیث کے راوی: رواه ابن ماجه والنسائي في الكبرى وأحمد
إسناده حسن
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ…
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا؟ قُلْ: مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ».
حدیث کی وضاحت: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ…
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی مسئلے پر گفتگو کی اور اس کے بعد کہا : "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔" لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی اس بات کی تردید کر دی اور بتایا کہ بندے کی مشیت کو اللہ کی مشیت پر واو کے ذریعے عطف کرنا شرک اصغر ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اس طرح کی بات کہنا جائز نہيں ہے۔ بعد ازاں ان کی رہ نمائی اس طرف کر دی کہ کیا کہنا چاہیے۔ انسان کو بس "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہنا چاہیے۔ بات بس اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کر کے کرنی چاہیے۔ کسی بھی حرف عطف کے ذریعے اس کے ساتھ کسی اور کی مشیت کو جوڑنا نہيں چاہیے۔
اسباق: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ…
- "ما شاء الله وشئت" یعنی ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں, اور اس طرح کا کوئی دوسرا جملہ کہنے کی ممانعت، جس میں بندے کی مشیت کو اللہ کی مشیت پر واو (اور) کے ذریعے عطف کیا گیا ہو، کیوں کہ یہ شرک اصغر ہے۔
- منکر کا انکار ضروری ہے۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے توحید کے چشمۂ صافی کو تحفظ فراہم کرنے اور شرک کے راستوں کو بند کرنے کا پورا انتظام کیا ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منکر کے انکار کے وقت مدعو کی رہنمائی کسی مباح بدل کی جانب کر دینی چاہیے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہنے کی رہنمائی کی ہے۔ جب کہ دوسری حدیث میں فرمایا : "تم کہو : ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں۔" ان دونوں کے درمیان تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں" کہنا جائز ہے اور "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہنا افضل ہے۔
- "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں" کہنا جائز تو ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہا جائے۔
موضوعات :
توحیدِ اُلوہیت
بسم الله الرحمن الرحيم
بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
حسبنا الله ونعم الوكيل
اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے