رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے اللہ تعا…

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے اللہ تعا…

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر…

عن بُرَيْدَة بن الحُصَيب الأَسْلَمِيّ رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أمَّر أميرًا على جَيْش أو سَرِيَّة أَوْصَاه بتَقْوَى الله، ومَن معه مِن المسلمين خيرًا، فقال: "اغْزُوا بسم الله في سبيل الله، قاتِلُوا مَن كَفَر بالله، اغْزُوا ولا تَغُلُّوا ولا تَغْدِروا ولا تُـمَثِّلُوا ولا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وإذا لَقِيتَ عَدُوَّك مِن المشركين فادْعُهم إلى ثلاث خِصال -أو خِلال-، فأيَّتُهُنَّ ما أجابوك فاقْبَلْ منهم وكُفَّ عنهم، ثم ادْعُهم إلى الإسلام فإن أجابوك فاقْبَلْ منهم.
ثم ادْعُهم إلى التَّحَوُّل مِن دارهم إلى دار المهاجرين، وأَخْبِرْهم أنهم إن فَعَلُوا ذلك فلهم ما للمهاجرين وعليهم ما على المهاجرين، فإن أَبَوْا أن يَتَحَوَّلُوا منها فأَخْبِرْهم أنهم يكونون كأَعْرَاب المسلمين يَجْرِي عليهم حُكْمُ الله تعالى، ولا يكون لهم في الغَنِيمَة والفَيْء شيءٌ إلا أن يُجَاهِدُوا مع المسلمين، فإن هم أَبَوْا فاسْأَلْهم الجِزْيَةَ، فإن هم أجابوك فاقْبَلْ منهم وكُفَّ عنهم، فإن هم أَبَوْا فاستَعِن بالله وقَاتِلْهم.
وإذا حاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فأرادُوك أن تَجْعَلَ لهم ذِمَّةَ الله وذِمَّةَ نَبِيِّه، فلا تَجْعَلْ لهم ذِمَّةَ الله وذِمَّةَ نَبِيِّه، ولكن اجْعَلْ لهم ذِمَّتَك وذِمَّةَ أصحابك؛ فإنكم أن تُخْفِرُوا ذِمَمَكم وذِمَّةَ أصحابكم أَهْوَنُ مِن أن تُخْفِرُوا ذِمَّةَ الله وذِمَّةَ نَبِيِّه، وإذا حاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فأرادُوك أن تُنْزِلَهم على حُكْم الله فلا تُنْزِلْهم، ولكن أَنْزِلْهم على حُكْمِك، فإنك لا تَدْرِي أَتُصِيبُ فيهم حُكْمَ الله أم لا".

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر…

بریدہ رضی اللہ عنہ خبردے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر یا سریہ (فوجی دستہ) کو کفار سے جہاد کرنے کے لیے روانہ فرماتے تو ان کا ايک امیر مقرر فرماتے جو ان کی وحدت و اجتماع کی حفاظت کرتا اور ان کے معاملات کو درست رکھتا۔ پھر اسے اللہ سے ڈرنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت فرماتے، اور ان کی اس بات کی طرف رہنمائی کرتے کہ انھیں دشمنوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنانا چاہیے، اور انھیں خیانت، عہد شکنی، مثلہ کرنے اور غیر مکلف لوگوں کو قتل کرنے سے اجتناب کرنے کی تلقین کرتے، اور انھیں یہ ہدایت دیتے کہ مشرکين کو سب سے پہلے اسلام کی دعوت پیش کریں. اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو انہیں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ترغیب دیں اور انہیں بتائیں کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے لیے وہی حقوق و واجبات ہوں گے جو پہلے ہجرت کرنے والوں کے ہیں، اگر وہ ہجرت سے انکار کر دیں تو ان کے ساتھ دیہاتی مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کردیں تو ان سے جزیہ طلب کریں۔ اگر وہ لوگ جزیہ دینے سے بھی انکار کریں تو اللہ کی مدد کے بھروسے ان سے جہاد و قتال کریں۔ اور اگر وہ کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کریں تو انہیں اللہ کا عہد اور اس کے رسول کا عہد و پیمان نہ دیں، بلکہ انہیں اپنا عہد و پیمان دیں، کیوں کہ اپنے عہد کو توڑنا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے کے مقابلے میں کم گناہ کا باعث ہے۔ اور جب وہ اپنے لیے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کا مطالبہ کریں تو وہ کسی حکم کے ذریعہ فیصلہ کرکے اسے اللہ کا حکم نہ بنائیں۔ اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں اللہ کے حکم کو نہ پہنچ سکیں۔ بلکہ ان کے ساتھ خود اپنے فیصلے اور اجتہاد کے مطابق معاملہ کریں۔

موضوعات : توحیدِ اُلوہیت · جہاد کے احکام اور مسائل

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود