نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

حدیث کے راوی: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

عن بُريدة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يَتَطَيَّر.

حدیث کی وضاحت: نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

نبی ﷺ کسی بھی شے سے بالکل بھی بد شگونی نہیں لیا کرتے تھے۔بدشگونی سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان کو کسی کام سے روک دے، جیساکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے۔ اسلام نے آتے ہیں بدشگونی و بدفالی اور پانسے کے تیروں سے قسمت معلوم کرنے سے منع کردیا اور استخارہ کو اس کا بدل مشروع کیا۔

موضوعات : توحیدِ اُلوہیت

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود