اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مرفوعاً: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أُعطِيتُ ما لم يُعطَ أحدٌ من الأنبياءِ". فقلنا: يارسول الله، ما هو؟ قال: "نُصِرتُ بالرُّعبِ، وأُعطِيتُ مَفَاتِيحَ الأرضِ، وسُمِّيتُ أحمدَ، وجُعِلَ التُّرابُ لي طَهُوراً، وجُعِلَتْ أمَّتي خيرَ الأممِ".
آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے وہ تمام باتیں جو ذکر ہوئیں ان میں سے کوئی بھی آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔ فرمایا: ”میری رعب کی ساتھ مدد کی گئی“ یعنی دشمن کو مجھ سے خوفزدہ کر کے۔ جس نے دشمنوں کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا، ان کی شان و شوکت کو ختم کر دیا اوران کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وأعطيت مفاتيح“ یہ مفتاح کی جمع ہے جو ایک ایسے آلے کا نام ہے جس کے ساتھ (تالا وغیرہ) کھولا جاتا ہے۔ دراصل اس سے مراد وہ شے ہے جس کے ذریعے ان تالہ بند اشیاء کو نکالا جاتا ہے جن تک اس کے بغیر رسائی حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ”زمین کے خزانے“ یہ اللہ کی طرف سے ممالک کے فتح ہونے کے وعدے کا استعارہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا نام احمد رکھا گیا“ آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یہ اللہ کی طرف سے بطور حفاظت تھا تاکہ اس نام سے موسوم شخص کے متعلق کمزور دل والے التباس اور شک میں مبتلا نہ ہوں کہ سابقہ کتابوں میں احمد کی صفت کے ساتھ موصوف شخص یہی ہے۔ ”وجعل لي التراب طهوراً“ یعنی مٹی کو مطَہِّرْ ( پاک کرنے والی شے) بنادیا گیا ہے جس وقت کہ پانی کا ملنا دشوار ہو۔
موضوعات : تیمّم