اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے بس اتنا کر لینا کافی تھا"۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک …
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعَنْ عَمَّارِ بنِ ياسِرٍ رضي الله عنه قال: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ.
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کسی کام سے ایک سفر میں بھیجا۔ دوران سفر ان کو جماع یا شہوت کے ساتھ نزول منی کی وجہ سے جنابت لاحق ہو گئی اور غسل کے لیے پانی نہ مل سکا۔ اس وقت ان کو معلوم نہيں تھا کہ جنابت کے بعد تیمم کیا جا سکتا ہے۔ صرف اتنا جانتے تھے کہ حدث اصغر کے بعد تیمم کی اجازت ہے۔ لہذا اجتہاد سے کام لیا۔ سمجھا کہ جس طرح حدث اصغر سے پاکی حاصل کرنے کے لیے بعض اعضائے وضو کا مٹی سے مسح کیا جاتا ہے، اسی طرح جنابت کے تیمم لیے پورے بدن پر مٹی لگانا ضروری ہے۔ لہذا مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گئے اور پورے بدن میں مٹی لگائی اور اس کے بعد نماز پڑھی۔ بعد ازاں جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو یہ جاننے کے لیے کہ ان کا عمل درست تھا یا نہيں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں حدث اصغر، جیسے پیشاب اور حدث اکبر، جیسے جنابت دونوں سے پاکی حاصل کرنے کا طریقہ بتا دیا۔ طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارا جائے اور اس کے بعد اپنے بائيں ہاتھ سے دائيں ہاتھ، دونوں ہتھیلیوں کی پشت اور چہرے کا مسح کیا جائے۔
موضوعات : تیمّم