اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب يوم الفتح فقال: «ألا إن كل مَأْثُرَة كانت في الجاهلية من دم أو مال تُذْكَرُ وَتُدْعَى تحت قدمي، إلا ما كان من سِقَايَةِ الحاج، وسِدَانَة البيت» ثم قال: «ألا إن دِيَةَ الخطإ شِبْه العمد ما كان بالسَّوْطِ والعَصَا مِائة من الإبل: منها أربعون في بُطُونِهَا أولادُهَا».
فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے آگاہ کیا کہ اہل جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان فخریہ باتیں باطل و ساقط ہیں ماسوا حاجیوں کو پانے پلانے اور بیت اللہ کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال کے۔ یعنی یہ دونوں ویسے ہی باقی ہیں جیسے تھیں۔
زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ کی دیکھ بھال بنو عبد الدار کے پاس تھی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر باقی رکھا۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی دیتِ مغلظہ ہے جو کہ سو اونٹ ہوتی ہے جن میں سے چالیس حاملہ ہوتے ہیں۔ قتلِ شبہ عمد سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی ایسے آلے سے مارے جس سے عموماً قتل واقع نہ ہوتا ہو جیسے کوڑا اور لاٹھی (اور اس طرح سے مارنے سے آدمی مر جائے)۔
موضوعات : جاہلیت کے مسائل · دیات