اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > اللہ عز و جل کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑے جنت میں داخل ہوتے ہیں۔
یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: {كنتم خير أمة أُخْرِجَتْ للناس} قال: "خَيْرُ النَّاسِ للنَّاسِ يَأتُونَ بهم في السَّلاسِلِ في أعْنَاقِهِمْ حتى يَدْخُلُوا في الإسلام".
وعنه أيضا رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «عَجِبَ الله عز وجل مِنْ قوم يَدْخُلُونَ الجنة في السَّلاسِلِ».
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان لوگوں پر تعجب کا اظہار فرماتا ہے جنہیں پابندِ سلاسل جنت کے طرف لے جایا جائے گا۔ یہ وہ کافر لوگ ہیں جنہیں مسلمان دوران جہاد قیدی بنا لیتے ہیں اور بعدازاں وہ مسلمان ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے یہ قید ان کے قبولِ اسلام اور دخولِ جنت کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ دوسری حدیث پہلی والی موقوف حدیث کی تفسیر اور وضاحت سمجھی جاتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ دوسرے لوگوں کے حق میں سب سے بہتر لوگ ہیں کیونکہ وہ ان قیدیوں کی ہدایت کا سبب بنتے ہیں۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے کلام کے آغاز میں یہ آیت تلاوت کی کیونکہ یہ بات اس امت کے بہترین امت ہونے کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔
موضوعات : جنت و دوزخ کا بیان