اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي أمامة رضي الله عنه : أن رجلا، قال: يا رسول الله، ائذن لي في السياحة. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «إن سياحة أمتي الجهاد في سبيل الله عز وجل ».
اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ عبادات توقیفی (اللہ کی طرف سے متعین) ہوتے ہیں، ہر مسلمان کے لیے اسے اسی کیفیت پر ادا کرنا ضروری ہے جس طرح شریعتِ حنیف نے بتایا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس شخص سے کہا جو زمین میں اللہ کی عبادت کی غرض سے سفر کا ارادہ کرتا تھا کہ یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے۔ اور زمین میں سفر کرنا اسلام پھیلانے کی غرض سے ہوتا ہے اور اہلِ اسلام کی سیر اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کی خاطر جہاد کرنے میں ہے۔
موضوعات : جہاد کی فضیلت