اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ کی سزا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بَعَثَنَا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بَعْثٍ، فقال: «إن وجَدْتُم فُلانا وفُلانا» لرجلين من قُرَيْش سَمَّاهُما «فأَحْرِقُوهُمَا بالنَّار» ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أردنا الخروج: «إني كنت أَمَرْتُكُمْ أن تُحْرِقُوا فلانًا وفلانًا، وإن النَّار لا يُعَذِّبُ بها إلا الله، فإن وجَدْتُمُوهُما فاقْتُلُوهُما».
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک لشکر میں دشمن سے لڑنے کے لئے روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ اگر انہیں دو قریشی افراد نظر آئیں جن کی آپ ﷺ نے تعیین کی تو انہیں آگ میں جلا دیں۔ پھر جب وہ آپ ﷺ کو سفر پر روانہ ہونے سے پہلے الوداع کرنے آئےتو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں فلاں فلاں شخص کو جلانے کے لئے کہا تھا۔ لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے گا۔ اس لئے اگر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائیں تو انہیں (جلانے کے بجائے) قتل کر دینا۔
موضوعات : جہاد کے آداب