اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے (حجاج کو) پانی پلانے کے لیے ایامِ منیٰ می…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عبد الله بن عُمَر رضي الله عنه قال: «اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بن عَبْدِ الْمُطَّلِب رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن يبيت بمكة ليالي مِنى، من أجل سِقَايَتِه فأذن له».
ایامِ تشریق کے دوران منیٰ میں رات گزارنا حج کے واجبات میں سے ایک واجب ہے، جنھیں نبی ﷺ نے سرانجام دیا۔ ان راتوں اور ایام میں مقامِ منیٰ میں قیام کرنا اللہ کی اطاعت اور شعائرِ حج میں سے ہے۔
چوں کہ حاجیوں کو پانی پلانا بہت ہی گراں پایہ نیکیوں میں سے ہے اس لیے کہ یہ اللہ کے گھر کے زائرین اور اس کے مہمانوں کی خدمت ہے اسی لیے آ پﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں رات نہ گزارنے کی رخصت دے دی کیونکہ ان پر سقایہ کی ذمہ داری تھی اور انھیں حاجیوں کو پانی پلانا تھا۔ یہ ایک عمومی مصلحت تھی جس سے معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص جس کو کوئی ایسا کام نہ کرنا ہو اور نہ ہی اسے کوئی عذر لاحق ہو اس کے لیے یہ رخصت نہیں ہے۔
موضوعات : حج کا طریقہ