میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لاتے، تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجر اسود ک…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لاتے، تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجر اسود ک…

حدیث کے راوی: اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لاتے، تو…

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: « تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الوَدَاع بالعُمرَة إلى الحج وأهدَى، فَسَاقَ مَعَهُ الهَدْيَ مِن ذِي الحُلَيفَة، وَبَدَأَ رَسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهَلَّ بالعمرة، ثُمَّ أَهَلَّ بالحج، فَتَمَتَّعَ النَّاس مع رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بالعمرة إلَى الحج، فَكَان مِن النَّاس مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الهَدْيَ مِن ذي الحُلَيفَة، وَمِنهُم مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم قَالَ للنَّاس: مَنْ كَانَ مِنكُم أَهْدَى، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ مِن شَيء حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَن لَم يَكُن أَهْدَى فَلْيَطُفْ بالبَيت وَبالصَّفَا وَالمَروَة، وَلْيُقَصِّر وَلْيَحْلِل، ثُمَّ لِيُهِلَّ بالحج وليُهدِ، فَمَن لم يجد هَدْياً فَلْيَصُم ثَلاثَةَ أَيَّام فِي الحج وَسَبعة إذَا رَجَعَ إلى أَهلِهِ فَطَافَ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاستَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ السَّبْعِ، وَمَشَى أَربَعَة، وَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بالبيت عِند المَقَام رَكعَتَين، ثُمَّ انصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، وطاف بِالصَّفَا وَالمَروَة سَبعَةَ أَطوَاف، ثُمَّ لَم يَحلِل مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ منه حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يوم النَّحرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بالبيت، ثُمَّ حَلَّ مِن كُلِّ شَيء حَرُمَ مِنهُ، وَفَعَلَ مِثل مَا فَعَلَ رَسول اللَّه صلى الله عليه وسلم : مَن أَهدَى وَسَاقَ الهَديَ مِن النَّاسِ».
«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَقْدَمُ مكَّة إذا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ -أَول ما يَطُوفُ- يَخُبُّ ثَلاثَةَ أَشْوَاطٍ».

حدیث کی وضاحت: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لاتے، تو…

نبی ﷺ جب اپنے اس حج کے لیے اہل مدینہ کے میقات ذو الحلیفہ کی طرف روانہ ہوئے، جس میں آپ ﷺ نے بیت اللہ، مناسکِ حج اور لوگوں کو الوداع کہا، لوگوں تک اپنا پیغام رسالت پہنچایا اور اس پر انھیں گواہ بنایا، تو آپ ﷺ نے عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا۔ آپ ﷺ حج قران کر رہے تھے۔ حج قران تمتع کہلاتا ہے۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے تو عمرہ و حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا اور بعض نے صرف عمرہ کے لیےاحرام باندھا اور اس سے فارغ ہونے کے بعد دل میں حج کی نیت رکھی، جب کہ کچھ لوگوں نے اکیلے حج کی نیت سے احرام باندھا۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو ان تینوں صورتوں میں اختیار دیا تھاکہ وہ جیسے چاہیں، کر لیں۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے کچھ صحابہ ذو الحلیفہ ہی سے اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر چلے تھے، جب کہ بعض لوگوں نے ہدی کے جانور اپنے ساتھ نہیں لیے تھے۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور انھوں نے یا تو اکیلے حج کی نیت کر رکھی تھی یا پھر عمرہ و حج دونوں کی نیت کے ساتھ احرام باندھا تھا، ترغیب دلائی کہ وہ حج کی نیت کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا دیں۔ جب انھوں نے طواف اور سعی کر لی، تو آپ ﷺ نے انھیں تاکید فرمائی کہ اپنے بال کتروا کر عمرہ کا احرام کھول دیں اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں اور قربانی دیں؛ کیوںکہ انھوں نے ایک ہی سفر میں دو عبادتیں کی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسے قربانی کا جانور دستیاب نہ ہو، وہ دس دن روزے رکھے۔ تین دن ایام حج میں۔ ان کا وقت تب سے شروع ہو جاتا ہے، جب آدمی عمرہ کے لیے احرام باندھتا ہے اور سات اس وقت رکھے، جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔

نبی ﷺ جب مکہ تشریف لائے، تو حجر اسود کو استلام کیا اور کعبہ کےگرد سات چکر لگائے۔ تین میں رمل کیا؛ کیوںکہ یہ مکہ آنے کے فورا بعد کیا جانے والا طواف تھا اور چار چکروں کو چل کر پورا کیا۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر صفا پر آئے اور اس کے اور مروہ کے مابین سات چکر لگائے؛ دونوں علامتوں کے درمیان آپ ﷺ دوڑتے اور باقی مسافت چل کر طے کرتے۔آپ ﷺ نے تب تک اپنا احرام نہیں کھولا، جب تک اپنا حج پورا کر کے یوم النحر میں قربانی ذبح نہیں کرلیا۔ جب آپ ﷺ اپنے حج، جمرہ عقبہ کی رمی، یوم النحر کو قربانی ذبح کرکے اور اپنے سر کو مونڈ کر فارغ ہو چکے،جسے تحلل اول کہا جاتا ہے، تو اس دن صبح کو بیت اللہ کی طرف لوٹ گئے اور اس کا طواف (یعنی طواف افاضہ) کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے لیے ہر اس شے کو حلال کر لیا، جس سے آپ ﷺ (احرام کی وجہ سے) اجتناب کر رہے تھے، حتی کہ بیویوں سے مباشرت بھی۔ آپ ﷺ کے جو صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے بھی ویسے ہی کیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا ۔

موضوعات : حج کا طریقہ

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود