اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں آسانی زیادہ ہو۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «خير النكاح أيْسَرُه»، وقال النبي صلى الله عليه وسلم لرجل: أتَرضى أن أُزَوِّجَكَ فُلانة «قال: نعم، قال لها: أترْضَين أن أُزوِّجَكِ فلانا» قالت: نعم، فزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ولم يَفرض صداقًا، فدخل بها، فلم يُعطها شيئًا، فلما حضرتْهُ الوفاة قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجني فلانة، ولم أُعطها شيئًا، وقد أعطيتها سَهمي من خَيبر، فكان له سهم بخيبر فأخذتْهُ فباعتْهُ فبلغ مائة ألف.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے پر ابھارا اور وضاحت فرمائی کہ نکاح کی افضلیت حق مہر کم ہونے کے ساتھ ہے اور یہ کہ کم حق مہر کے عوض نکاح کرنا مستحب ہے اور بہت زیادہ حق مہر خلافِ افضل ہے اگرچہ یہ جائز ضرور ہے۔ کیونکہ جب حق مہر کم ہو گا تو جو شخص نکاح کرنا چاہے گا اس کے لئے اس میں دشوار ی نہیں ہو گی اور یوں نکاح کی کثرت ہو گی جو کہ ایسا عمل ہے جس کی ترغیب دی گئی ہے اور غریب لوگ بھی شادی کر سکیں گے اور اس سے نسل انسانی میں اضافہ ہو گا جو کہ نکاح کا اہم مقصد ہے۔ پھر عقبہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کے سامنے یہ بات رکھی کہ آپ ﷺ اس کی شادی ایک عورت سے کر ديتے ہیں اور پھر یہی بات عورت کے سامنے بھی رکھی۔ جب دونوں اطراف نے رضامندی کا اظہار کر دیا تو نبی ﷺ نے ان کی شادی کرا دی ۔ مرد نے عورت کے لیے حق مہر مقرر نہ کیا اور (بطور حق مہر) اسے کچھ دیے بغیر ہی اس سے مباشرت کر لی۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنی غنیمت میں ملنے والی خیبر کی زمین میں سے ایک حصہ اسے بطور مہر دے دیا۔ عورت نے اسے لے کر بیچ دیا جس کی قیمت ایک لاکھ ہوئی۔
موضوعات : حق مہر