اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ نے صفیّہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر بنا دیا۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعتق صفية، وجعل عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.
صفیہ بنت حُيی کے والد بنو نضیر کے سردار تھے۔ ان کی بیٹی صفیّۃ كنانة بن ابی حقيق کی بیوی تھیں۔ ان کا شوہر خیبر کی لڑائی میں مارا گیا اور آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا۔ عورتیں اور بچے مسلمانوں کے غلام بن گئے۔ ان میں صفیۃ بھی تھیں۔ وہ دِحیہ بن خلیفہ الكلبي رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ آپ ﷺ نے انھیں صفیہ کے بدلے میں دوسری باندی دے دی اور ان (صفیہ) کی دل دہی نیز شوہر کے انتقال پر شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے انھیں اپنے لیے چن لیا۔
آپ ﷺ کی شرافت و احسان مندی تھی کہ آپ نے انھیں ایک حقیر باندی کی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھایا؛ بلکہ غلامی کی ذلت سے بچایا۔ عزت افزائی کی اور امہات المؤمنین میں شامل کر لیا۔ اس لیے کہ آپ نے انہیں آزاد کرکے ان سے شادی کی اور آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا۔
موضوعات : حق مہر