اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > اس نے اللہ سے، اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے ،تو عطا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن بريدة رضي الله عنه قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلاً يقول: اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد الصمد، الذي لم يلد، ولم يولد، ولم يكن له كفوًا أحد.
فقال: «لقد سأل الله باسمه الذي إذا سُئِلَ به أعطى، وإذا دُعِيَ به أجاب»
یہ عظیم دعا مانگتے ہوئے آپ ﷺ نے ایک اعرابی کو سنا، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ اختیار کررہا تھا، جو کہ اسمِ اعظم اور اللہ کی توحید پر مشتمل ہے کہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، لوگ اس سے اپنی ضرورتیں مانگتے ہیں، اس کی کوئی اولاد نہیں، اس لیے کہ اس کا کوئی مثل نہیں، وہ ہر ایک سے مستغنی ہے، نہ وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔ کوئی اس کی ذات، صفات اور افعال میں اس کے مشابہ نہیں۔
یہ وہ عظیم معانی ہیں جو توحید کی اصل اور بنیاد کہلاتی ہیں اور جنھوں نے اس دعا کو عظیم دعاؤوں میں سے بنا دیا۔ جو بھی بندہ اس کے ذریعے اللہ سے دعا مانگتا ہے اللہ اسے جو مانگے عطا کرتا ہے۔
موضوعات : دعا کی قبولیت کے اسباب اور اس کے موانع