دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی؛ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک …

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی؛ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک …

حدیث کے راوی: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی؛ ایک وہ آنکھ ج…

عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعاً: «عَيْنَانِ لاَ تَمسُّهُمَا النَّار: عَيْنٌ بَكَتْ من خَشْيَة الله، وعَيْنٌ بَاتَت تَحْرُسُ في سَبِيل الله».

حدیث کی وضاحت: دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی؛ ایک وہ آنکھ ج…

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی آگ اس آنکھ کو نہیں چُھوتی جو اللہ کے خوف سے روتی ہے، یعنی جب انسان اللہ کی عظمت اور بندوں پر اس کی قدرت کو یاد کرتا ہے اور اپنی حالت اور اللہ تعالیٰ کے حق میں اپنی کوتاہی دیکھتا ہے، تو اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور اس کے عذاب اور ناراضگی سے ڈرتے ہوئے روتا ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ آنکھ جہنم کی آگ سے نجات پائے گی۔

دوسری آنکھ جسے جہنم کی آگ نہیں چُھوئے گی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں سرحدوں پر اور لڑائی کے موقعوں پر اہل اسلام کی حفاظت پر مامور ہو کر پہرہ دیتی ہے۔

”لا تمسهما النار“ یہ جملہ جُزْ بول کر کُلْ مُراد لینے کی قبیل سے ہے۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے روتا ہے اور اللہ کے راستے میں پہرہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے جسموں پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔

موضوعات : دل کے اعمال

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود