مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

حَسَنْ

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «دِيَة المُعَاهِدِ نصف دِيَة الحُرِّ».

حدیث کی وضاحت: مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے۔

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے کسی فرد کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کا نصف ہوتی ہے چاہے وہ ذمی ہو جسے عقدِ ذمہ کے تحت اس شرط پر مسلمانوں کےعلاقے میں رہنے کی اجازت دی گئی ہو کہ وہ جزیہ ادا کرے گا اور دینِ اسلام کے احکام کی پاسداری کرے گا یا پھر وہ معاہِدْ ہو جس کے ساتھ صلح طے پا گئی ہو اور وہ اپنے علاقے میں رہائش پذیر ہو یا پھر مستامن ہو یعنی ایسا کافر ہو جو مسلمانوں کے علاقے میں حصولِ امان کے بعد تجارت وغیرہ کے لیے آیا ہو کیونکہ اس بات میں یہ سب شریک ہیں کہ ان کی جان کی حفاظت واجب ہے۔

ان کے جراحات کی بھی دیت ہوتی ہے جس طرح مسلمانوں کی جراحات کی دیت ہوتی ہے۔ کیونکہ جرح (زخم) قتل کا تابع ہوتا ہے۔چنانچہ اہل کتاب میں سے مرد کی دیت پچاس اونٹ اور عورت کی دیت پچیس اونٹ ہوں گے کیونکہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہوتی ہے۔

جب کہ حربی کافر کی نہ تو قصاص کی شکل میں کوئی ضمانت ہے اور نہ ہی دیت کی شکل میں۔

موضوعات : دیات

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود