اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم اسی کیفیت پر ہمیشہ رہو جس حالت میں میرے پا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي ربعي حنظلة بن الربيع الأسيدي الكاتب- رضي الله عنه- أحد كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لقيني أبو بكر رضي الله عنه فقال: كيف أنت يا حنظلة؟ قلت: نافق حنظلة! قال: سبحان الله ما تقول؟! قلت: نكون عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يُذَكِّرُنَا بالجنة والنار كأنا رَأْىَ عَيْنٍ فإذا خرجنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم عَافَسْنَا الأزواج والأولاد وَالضَّيْعَاتِ نسينا كثيرا، قال أبو بكر رضي الله عنه : فوالله إنا لنلقى مثل هذا، فانطلقت أنا وأبو بكر حتى دخلنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت: نافق حنظلة يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «وما ذاك؟» قلت: يا رسول الله، نكون عندك تذكرنا بالنار والجنة كأنا رأي العين فإذا خرجنا من عندك عافسنا الأزواج والأولاد والضيعات نسينًا كثيرًا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «والذي نفسي بيده، لو تدومون على ما تكونون عندي، وفي الذِّكْر، لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طُرُقِكُمْ، لكن يا حنظلة ساعة وساعة» ثلاث مرات.
حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس جس حالت میں ہوتے ہیں دوسرے وقت اُس حالت میں نہیں ہوتے؛ آپ ﷺ کے پاس اس حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں، لیکن جب اپنے بچوں، عورتوں اور دنیاوی امور میں پڑ جاتے ہیں تو ان کی حالتیں بدل جاتی ہیں، حنظلہ رضی اللہ عنہ نےاسے نفاق خیال کیا۔ اس لیے کہ نفاق کہتے ہیں کہ ایسی حالت کو ظاہر کرنا جو باطن کے خلاف ہو۔ جب انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بتایا تو کہا اگر مسلسل اس حال پر قائم رہو جس حال میں میرے پاس ہوتے ہو، تو فرشتے اپنے ہاتھوں تم سے ہر حالت میں سلام کرے۔ لیکن اعتدال ضروری ہے ایک وقت اللہ کے لیے اور ایک وقت گھر والوں اور دنیا کے لیے۔
موضوعات : ذکر کے فضیلت