اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہےجب وہ (دودھ) انتڑیوں کو پھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يُحَرِّمُ من الرَّضَاعَةِ إلا ما فَتَقَ الْأَمْعَاءَ في الثَّدْيِ، وكان قَبْلَ الْفِطَامِ».
حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف وہی رضاعت باعثِ حرمت ہوتی ہے جس میں دودھ آنتوں تک پہنچ کر انہیں وسیع کر دے۔ باقی رہا وہ تھوڑا سا دودھ جو آنتوں تک نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں کھول پائے اور کشادہ کر سکے تو اس طرح کی رضاعت حرمت کا باعث نہیں ہوتی ۔ چنانچہ مؤثر رضاعت وہی ہوتی ہے جو کمر عمری میں دودھ چھڑا لینے سے پہلے پہلے ہو۔
موضوعات : رضاعت کی شرائط