رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کر…

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مِنَ الجَانِّ، وعَيْنِ الإنسان، حتى نَزَلَتْ المُعَوِّذتان، فلمَّا نَزَلَتا، أخذ بهما وتركَ ما سواهما.

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کر…

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ دعاؤں اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرتے ہوئے جنات کی شرانگیزیوں اور انسانوں کی حاسدانہ نظروں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرماتے تھے اور یوں فرمایا کرتے تھے کہ: میں جنات اور انسانوں کی نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، تا آں کہ معوذتین کا نزول ہوگیا۔ جب یہ نازل ہو گئیں، تو آپ ﷺ پناہ طلب کرنے میں بیش تر انھیں کو اختیار فرما لیا اور ان کے علاوہ دیگر تمام تعاویذ اور جھاڑ پھونک کے طور پر پڑھی جانے والی دعاؤں اور اذکار کو چھوڑ دیا؛ کیوں کہ ان سورتوں میں ان تمام دعاؤں اور اذکار کو شامل کردیا گیاہے، جن کے ذریعے پناہ طلب کی جاسکتی ہے اور جن سے پناہ طلب کرنا ہوتا ہے۔

موضوعات : رقیہ شرعیہ، شرعی جھاڑ پھونک/ شرعی دم

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
حسبنا الله ونعم الوكيل اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود