اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ايسے ہيں جو نيکی ميں پيچھے نہيں رہتے ہیں۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي عطية، قال: دخلت أنا ومسروق على عائشة رضي الله عنها ، فقالَ لها مسروقٌ: رجلانِ من أصحابِ محمدٍ صلى الله عليه وسلم كِلاَهُمَا لا يَألُو عَنِ الخَيْرِ؛ أحَدُهُمَا يُعَجِّلُ المَغْرِبَ وَالإفْطَارَ، وَالآخر يؤخِّر المغرب وَالإفْطَارَ؟ فَقَالَتْ: مَنْ يُعَجِّلُ المَغْرِبَ وَالإفْطَار؟ قالَ: عبدُ اللهِ -يعني: ابن مسعود- فقالتْ: هَكذا كانَ رسولُ اللهِ يَصْنَعُ.
ابو عطیہ اور مسروق نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں: ان میں سے ایک ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی تاخیر کرتا ہے اور دوسرا افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی جلدی کرتا ہے، ان میں سے کس کا عمل زیادہ درست ہے؟ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دریافت کیا: ان میں سے وہ کون ہیں جو جلدی کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے، يعنی اللہ کے رسول ﷺ افطاری میں جلدی کرتے تھے اور نماز مغرب بھی جلدی پڑھتے تھے۔ يہ اللہ کے رسول ﷺ کی عملی سنت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افطاری ميں جلدی کرنا بہتر وافضل ہے۔
موضوعات : روزے کی سنتیں