اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہ…
نووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنْ أَبِي العَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعِدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ، فَقَالَ: «ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللَّهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ».
ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے عرض کیا کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتلا دیں جسے وہ کرنے لگے تو اللہ کی محبت حاصل ہو جائے اور لوگوں کی محبت ملنے لگے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم دنیا کی زائد اور ایسی چیزوں کو چھوڑ دو، جو آخرت میں نفع بخش نہ ہوں اور جن سے دین کا نقصان ہو سکتا ہو۔ جب کہ لوگوں کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم ان کے پاس موجود دنیا کی لالچ نہ کرو۔ کیوں کہ اپنے پاس موجود دنیا سے محبت فطری طور پر ہر انسان کو ہے۔ لہذا اس معاملے میں مزاحمت کرنے والے سے اسے نفرت ہوگی اور اس پر توجہ نہ دینے سے محبت ہوگی۔
موضوعات : زہد اور تقوی