”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بج…
اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > ”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بج…
حدیث کے راوی: اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
صحيح
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: ”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز ک…
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: «مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ».
حدیث کی وضاحت: ”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز ک…
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز سے منع کردیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بلا استثنا اس سے اجتناب کریں اور جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز کا حکم دیں تو ہم پر واجب ہے کہ ہم حسب استطاعت اسے سر انجام دیں۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے خبردار کیا کہ ہم سابقہ امتوں کی طرح نہ ہو جائیں، جنہوں نے اپنے انبیا سے بہت زیادہ سوالات کیے اور ان کی مخالفت کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک و برباد کر دیا۔ لہذا ہمیں ان کے جیسا نہ ہونا چاہیے، تاکہ ان کی طرح ہلاک نہ ہو جائيں۔
اسباق: ”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز ک…
- یہ حدیث مامورات پر عمل کرنے اور منہیات سے بچنے کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
- نہی کے ارتکاب کی ذرا بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جب کہ امر کو استطاعت کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، کیوں کہ آدمی ترک کی قدرت رکھتا ہے اور فعل کے لیے مامور بہ کام کو انجام دینے کی قدرت درکار ہوتی ہے۔
- کثرت سوال کی ممانعت۔ علما نے سوال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم میں دین کے ضروری مسائل سے جڑے ہوئے ایسے سوالات آتے ہیں، جن کا مقصد سیکھنا ہو۔ اس طرح کا سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صحابہ کے سوالات اسی نوع کے ہوا کرتے تھے۔ دوسری قسم میں ایسے سوالات آتے ہیں، جو تعنت اور تکلف کے طور پر کیے جائيں۔ اس طرح کا سوال کرنا منع ہے۔
- اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
- کسی چیز کی ممانعت میں اس کا قلیل اور کثیر دونوں شامل ہوتا ہے۔ کیوں اس سے (مکمل طور پر) اسی وقت بچا جاسکتا ہے، جب اس کے کم اور زیادہ مقدار دونوں سے بچا جائے۔ مثال کے طورپر ہمیں سود سے منع کیا گیا ہے، تو اس میں اس کی کم اور زیادہ مقدار دونوں شامل ہوگی۔
- حرام تک پہنچانے والے اسباب سے بھی گریز کرنا چاہیے، اس لیے کہ اجتناب کے معنیٰ میں یہ بھی داخل ہے۔
- کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ جب وہ رسولﷺکا حکم سنے تو کہے کہ کیا یہ واجب ہے یا مستحب؟ بلکہ اسے فورا حکم کی تعمیل کرنی چاہیے، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "فَأْتُوا مِنْهُ مَا استَطَعْتُمْ". یعنی جہاں تک ہو سکے، اس پر عمل کرو۔
- زیادہ سوال کرنا ہلاکت کا سبب ہے، بالخصوص ایسی باتوں کے بارے میں جن کی معرفت حاصل کرنا ممکن نہ ہو، جیسے غیبی مسائل اور قیامت کے احوال۔ ان کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تمھارا شمار غلو کرنے والوں میں ہوگا۔
موضوعات :
سابقہ انبیاء اور رسول علیہم السلام
بسم الله الرحمن الرحيم
بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
الله أكبر
اللہ سب سے بڑا ہے