اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > (نماز میں) ہر سہو (بھول چوک) پر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ثوبان رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لكل سهو سجدتان بعدما يُسَلِّمُ».
اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی سہو نماز میں ہو جائے زیادتی، کمی یا شک کی صورت میں تو اس پر سجدۂ سہو کرنا واجب ہے، یہ حدیث ان لوگوں کے دلائل میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد ہے۔ اس مسئلہ میں تمام دلیلوں کے درمیان جمع کی صورت یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو دو صورتوں میں ہے: پہلی صورت جب اس نے سلام پھیرا دیا جب کہ اس نماز میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ دوسری صورت جب اسے شک ہوا اور غالب گمان کا خیال کرتے ہوئے مکمل کیا ان دو صورتوں کے علاوہ سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے ہو گا۔
موضوعات : سجدہ سہو، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر