اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔

حدیث کے راوی: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔

حَسَنْ

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین س…

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما مرفوعًا: «الراكب شيطان، والراكبان شيطانان، والثلاثة رَكْب».

حدیث کی وضاحت: اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین س…

اس حدیث میں اکیلے ایک شخص کو اور دو اشخاص کو سفر پر جانے سے ڈرایا گیا ہے ۔ تاہم اس کا تعلق اس سفر سے ہے جہاں کسی کا گزر نہ ہو۔ اس حدیث میں کسی کے ساتھ یا پھر گروہ کی شکل میں سفر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ انسان شیطان کی چالوں سے محفوظ رہے۔ جہاں تک تنہا سفر نہ کرنے کی بات ہے تو یہ جگ ظاہر ہے، بوقتِ ضرورت انسان کو دوسرے کی مدد در پیش ہوتی ہے، یا ہوسکتا ہے کہ راستے ہی میں اس کا انتقال ہوجائے (اور وہ بے یارومددگار ہوجائے) نیز تاکہ وہ شیطان کی چالبازی کا شکار نہ ہوجائے۔ جہاں تک صرف دو لوگوں کے سفر پر نکلنے کی ممانعت ہے تو اس میں علت یہ ہوسکتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اُن میں سے کوئی راستے میں کام آجائے (یا بیمار ہوجائے) تو دوسرا شخص تنہا ہوسکتا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں کسی (شخص کا تنہا) موٹر کار میں سفر کرنا ایسے راستوں (روٹس) پر جو چالو ہو (بیابان نہ ہو) تو وہ تنہا سفر کرنے کی ممانعت میں شامل نہیں نہ ہی اُس اکیلے سوار مسافر کو شیطان کہا جائے گا، اس لیے کہ اپنی اپنی گاڑیوں میں سفر کرنے والے گویا قافلے کی شکل میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر جیسے مکہ اور ریاض یا مکہ اور جدہ کے مابین کے راستے ہیں، تاہم ایسے راستے جو غیر آباد (چالو نہ) ہوں، اُن پر گاڑی میں بھی سفر کرنا اکیلے سفر کرنے کی ممانعت کے ضمن میں آئے گا اور وہ سوار اِس حدیث کے حکم میں داخل ہوگا۔

موضوعات : سفر کے آداب اور احکام

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا إله إلا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود