اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول الله ﷺ نے چاندی کی چاندی اور سونے کی سونے کے ساتھ خرید و فروخت سے منع فرمایا ماسوا اس…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الفضة بالفضة، والذهب بالذهب، إلا سَوَاءً بسوَاءٍ، وأمرنا أن نشتري الفضة بالذهب، كيف شئنا. ونشتري الذهب بالفضة كيف شئنا، قال: فسأله رجل فقال: يدا بيد؟ فقال: هكذا سمعت».
چوں کہ سونے کی سونے اور چاندی کی چاندی کے ساتھ زیادتی کے ساتھ خرید و فروخت سود ہوتی ہے اس لیے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا اِلاّ یہ کہ دونوں کا وزن برابر نہ ہو (دریں صورت دونوں کا تبادلہ جائز ہے)۔ تاہم سونے کی چاندی اور چاندی کی سونے کے بدلے میں خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں اگرچہ یہ (وزن میں) زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔
تاہم اس خرید و فروخت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مجلس عقد ہی میں دونوں اطراف كا قبضہ ہو جائے بصورت دیگر یہ ربا النسیئہ بن جائے گا جو کہ حرام ہے کیونکہ جنس کے مختلف ہونے کی وجہ سے مقدار میں زیادتی تو جائز ہے تاہم (مجلس عقد ہی میں) باہمی طور پر قبضہ میں لینے کی شرط ہنوز باقی ہے کیونکہ دونوں میں ربا کی علت پائی جاتی ہے۔
موضوعات : سود