کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

عن أبي سعيد رافع بن المعلى رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآن قَبْلَ أنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِد؟» فَأخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أرَدْنَا أنْ نَخْرُجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنَّكَ قُلْتَ: لأُعَلِّمَنَّكَ أعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآنِ؟ قالَ: «الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ، هِيَ السَّبْعُ المَثَانِي وَالقُرْآنُ العَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ».

حدیث کی وضاحت: کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ألا“ یہ لفظ مخاطب کو ما بعد والی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ ” مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟“ آپ ﷺ نے ابتداءً نہیں بتایا بلکہ یہ جملہ کہا، اس لیے کہ یہ اسلوب ان کے ذہن میں بات ڈالنے اور ان کو اس طرف متوجہ کرنے کے زیادہ مناسب تھا۔ ”پس آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا“ یعنی یہ کہنے کے بعد جب ہم چلنے لگے، ”جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے“ یعنی سورہ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت ہے، یہ اس لیے کہ اس میں قرآنِ کریم کے تمام مقاصد جمع ہیں، اسی وجہ سے اسے اُمُّ القرآن کہتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے سورۃ فاتحہ کو ”سبعِ مثاني“ کا نام دے کر اسے باقی تمام سورتوں سے ممتاز کیا بلکہ اس کو ان سب میں سے بڑی سورت قرار دیا۔ ’مثاني‘ مثناة کی جمع ہے اور مثناة تثنیۃ سے ہے، اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھا جاتا ہے یا اس لیے کہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا کر اسے تثنیہ بنایا جاتا ہے یا اس کو ’مثاني‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دو قسموں پر مشتمل ہیں ثناء اور دعاء یا اس لیے کہ اس میں الفاظ کی فصاحت اور معانی کی بلاغت دونوں چیزیں جمع کی گئی ہیں یا اس لیے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ اسے دُہرایا جاتا رہے گا، بار بار پڑھا جائے گا جس سے یہ ختم نہیں ہوگی، اسے پڑھایا جائے گا جس سے یہ سینوں سے نہیں مٹے گا یا اس لیے کہ اس کے فائدوں میں وقتاً فوقتاً تجدید ہوتی ہے، اس لیے کہ ان کی کوئی انتہاء نہیں یا اس کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ ’مثناۃ‘، ’ثناء‘ سے ماخوذ ہے، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی تعریف پر مشتمل ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے اس کی تعریف کی جاتی ہے اور یا یہ ’الثنايا‘ سے ماخوذ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے چُنا ہے۔ ”والقرآن العظيم“ یعنی اس سورت کو قرآن عظیم بھی کہتے ہیں۔ جو مجھے دیا گیا ہے۔ اس سورت کو قرآنِ عظیم کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت سے متعلق تمام موجودات اور احکام و عقائد کو جمع کیا گیا ہے۔

موضوعات : سورتوں اور آیات کے فضائل

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا إله إلا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود