اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > یہ آگ تو تہماری دشمن ہے۔ چنانچہ جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: احْتَرَقَ بَيْتٌ بالمَدِينَةِ عَلَى أهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِشَأنِهِم، قالَ: «إنَّ هذه النارَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُم، فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ».
مدینہ میں رات کے وقت ایک گھر آگ لگنے کی وجہ سے جل گیا۔ نبی ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ یہ آگ تو ان لوگوں کی دشمن ہے جنہوں نے اس کو جلا رکھا ہو جب کہ وہ اس کے شعلوں کی لپٹ اور اس کی تپش سے احتیاط نہ کریں۔ پھر نبی ﷺ نے لوگوں کو سونے سے پہلے آگ کو بجھا دینے کا حکم فرمایا تاکہ اس کے بھڑک اٹھنے اور جلا دینے جیسی مضرتوں کو دور کیا جا سکے۔
موضوعات : سونے اور بیدار ہونے کے آداب