”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

حدیث کے راوی: متفق عليه

صحيح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

عن النُّعمان بن بَشير رضي الله عنه قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ -وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ-: «إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ».

حدیث کی وضاحت: ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم چیزوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بتا رہے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ شریعت میں چیزیں تین طرح کی ہیں۔ واضح حلال، واضح حرام اور ایسی مشتبہ چیزیں جن کا حلال یا حرام ہونا واضح نہ ہو اور جن کے شرعی حکم سے بہت سے لوگ واقف نہ ہوں۔

ایسے میں جس نے ان مشتبہ چیزوں کو چھوڑ دیا، اس کا دین حرام چیزوں میں پڑنے سے محفوظ رہے گا اور اس کی عزت وآبرو اس مشتبہ چیز میں ملوث ہونے کی وجہ سے لوگوں کی چہ می گوئیوں سے محفوظ رہے گى۔ اس کے برخلاف جس نے ان مشتبہ چیزوں سے اجتناب نہيں کیا، اس نے اپنے نفس کو یا تو حرام چیز میں پڑنے یا لوگوں کی چہ می گوئیوں کا سامنا کرنے کے لیے آگے کر دیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مشتبہ کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کی حالت بیان کرنے کے لیے ایک مثال دی اور بتایا کہ ایسے شخص کی مثال اس چرواہے کے جیسی ہے جو کسی کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنا جانور چراتا ہو۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ محفوظ چراگاہ کے آس پاس چرنے کی وجہ سے اس کا جانور چراگاہ کے اندر چرنے لگے۔ بالکل ایسے ہی جو شخص کوئی شبہ والا کام کرے گا، وہ اپنے اس کام کی وجہ سے حرام کے قریب ہو جائے گا اور اس بات کا امکان بنا رہے گا کہ وہ حرام میں پڑ جائے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے (یعنی دل)، جس کے درست ہونے سے جسم درست رہتا ہے اور جس کے بگڑنے سے جسم بگڑ جاتا ہے۔

اسباق: ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

موضوعات : شرعی حکم · قلبی اعمال کے فضائل · تزکیہ نفس

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود