اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > بہترین ساتھی چار ہیں، بہترین فوجی دستہ چار سو کا ہے، بہترین فوج چار ہزار کی ہے اور بارہ ہز…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعاً: «خير الصحابة أربعة، وخير السَّرَايَا أَرْبَعُمِائة، وخير الجيوش أربعة آلاف، ولن يُغْلَبَ اثنا عشر ألفا مِنْ قِلَّةٍ»
حدیث کا معنی یہ ہے کہ: سب سے اچھی رفاقت چار افراد کی ہوتی ہے اور سب سے بہتر فوجی دستہ وہ ہے جو چار سو افراد پر مشتمل ہو اور سب سے مفید لشکر وہ ہے جس کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ چکی ہو اور جب فوج کی تعداد بارہ ہزار یا اس سے زیادہ ہو جائے تو اسے شکست نہیں ہوتی اور اگر شکست ہو جائے تو وہ تعداد کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس صورت میں شکست کے کچھ اور اسباب ہوتے ہیں جیسے دین کی کمی، تعداد کی کثرت پر اترانا یا گناہوں میں مبتلا ہونا یا پھر اللہ کے لیے اخلاص کا فقدان وغیرہ۔
موضوعات : شرعی سیاست