اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جب تم کسی شکار پر تیر چلاو اور وہ غائب ہو جائے اور پھر بعد میں ملے، تو اسے کھاو، جب تک اس …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي ثعلبة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، فغابَ عنْك، فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ، ما لَمْ يُنْتِنْ».
اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ شکاری نے جب شکار پر تیر یا اس کے حکم میں داخل کوئی اور اوزار چلایا، پھر وہ شکار کو لگ گیا، اس کے بعد شکار شکاری کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور بعد میں ملا، تو ایسے میں اگر وہ شکار کے جسم پر اپنے چلائے ہوئے تیر کے نشان کے علاوہ کسی دوسرے قاتل زخم کا نشان نہ پائے، تو اسے کھا سکتا ہے۔ لیکن یہ جواز اس وقت تک ہے، جب تک اس کے اندر بدلاو اور بد بو نہ آ گئی ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو وہ خبائث یعنی گندی چیزوں میں شمار ہوگا اور انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کی وجہ سے اس کو کھانا جائز نہیں ہوگا۔
موضوعات : شکار