عہد رسالت مآبﷺ اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > عہد رسالت مآبﷺ اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک…

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: عہد رسالت مآبﷺ اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما ک…

عن ابن عباس، قال: "كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أَنَاةٌ، فلو أَمْضَيْنَاهُ عليهم، فَأَمْضَاهُ عليهم".

حدیث کی وضاحت: عہد رسالت مآبﷺ اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما ک…

اس حدیث میں یہ بتایا گیا کہ طلاق رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے ابتدائی دو برس تک ایسا تھا کہ جب کوئی ایک بارگی تین طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی اور وہ اس طور پر کہ کوئی آدمی کہے تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ تجھے تین طلاق ہے، یعنی تینوں کو ایک ساتھ جمع کر کے تو صحیح بات یہ ہے کہ یہ لغو ہے، اور اس کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ یہ ایک طلاق ہی ہو گی، لیکن جب لوگوں نے طلاق میں جلدی کرنا شروع کر دیا، اور کثرت سے طلاق دینے لگے اور اس معاملے میں کھلواڑ کرنے لگے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو جلد بازی سے روکا جائے، چنانچہ انہوں نے ان تین طلاقوں کو جسے ایک سمجھا جاتا تھا اسے تین بنا دیا۔ علماء کہتے ہیں کہ تین طلاقیں جو عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تین واقع ہونے لگیں ان سے پہلے صرف ایک ہی طلاق واقع ہوتی تھی، کیونکہ وہ لوگ پہلے تین کا استعمال کرتے ہی نہیں تھے، اور شاذ ونادر ہی اس کا استعمال کرتے تھے لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ اس کا استعمال کثرت سے کرنے لگے اس لیے انہوں نے لوگوں پر اس حکم کو جاری کر دیا اور اسے تین بنا دیا۔

موضوعات : طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود