اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > تم نے سنت کے خلاف طلاق دی ہے اور سنت کے خلاف رجعت کی ہے، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عمران بن حصين رضي الله عنهما أنه سُئِلَ عن الرجل يُطلِّق امرأته، ثم يَقَعُ بها، ولم يُشْهِدْ على طلاقها، ولا على رَجْعَتِهَا، فقال: "طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ على طلاقها، وعلى رَجْعَتِهَا، ولا تَعُدْ".
اس حدیث میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور پھر رجوع کے بعد اس سے صحبت بھی کر لی، طلاق اور رجوع پر کسی کو گواہ بنائے بغیر، آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس طلاق دینے والے نے دونوں حالتوں میں سنت کی مخالفت کی ہے، پہلے تو اس نے طلاق دیتے وقت کسی کو گواہ نہیں بنایا اور دوسری مرتبہ رجعت کے وقت بھی کسی کو گواہ نہیں بنایا، اور آپ نے طلاق و رجعت پر گواہ بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس طرح کا عمل پھر نہ دہرانا۔
موضوعات : طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت